جواب: اِس طرح کے ایک سُوال کے جواب میں میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :آیت کو نہ ماننا یعنی انکار کرنا کُفر ہے، اس کے پیچھے نَما ز کیسی!مگر عوام''نہ ماننا''اسے بھی کہتے ہیں کہ گناہ خِلاف آیتِ قراٰنی واقِع ہوا اور اُسے آیت سُنائی گئی اور وہ اپنے گُناہ سے باز نہ آیا، یہ باز نہ آنا اگر مَحض شامتِ نَفس سے ہو، (کہ)آیت پر (تو)ایمان رکھتا ہے۔ نہ اس سے انکار کرتا ہے نہ اس کا مُقابَلہ کرتا ہے تو (اگر چہ)گناہ ہے (مگر)کُفر نہیں ۔پھر اگر وہ گناہ خود کبیرہ ہو یا بوجِہ عادت کبیرہ ہو جائے اور یہ شخص اعلان کے ساتھ اس کا مُرتکب ہو تو فاسِقِ مُعلِن ہے، اس کے پیچھے نَماز مکروہِ تحریمی یعنی پڑھنی گناہ اور پڑھی ہو تو پھیرنی واجِب ۔ وَاللہُ تَعالٰی اَعْلَمُ۔