جواب:اِس قَول میں ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ پر اعتِراض ہے اور یہ کفر ہے ۔ یاد رکھئے !جوشخص قرآن شریف یا اس میں سے کسی حصہ کی توہین کرے یا اس کو گالی دے یا اس کا انکار کرے یا اس کے کسی حَرف کا یا کسی آیت کا انکار کرے یا اس کوجُھٹلائے یا اس کے کسی حصہ یاکسی حکم کو جھٹلائے جس کی اس میں تَصریح کی گئی ہے یا جس کی اس میں نَفی کی گئی(یعنی انکار کیا گیا)ہے اُس کو ثابِت کرے یا جس کو اس میں ثابِت کیا گیا ہے، اُس کی نفی (یعنی انکار)کرے حالانکہ وہ انکار کرنے والا اس کو جانتا ہے یا اس میں کچھ شک کرتا ہے تو وہ بِالاِجماع عُلمائے کرام کے نزدیک کافر ہے۔
آیتِ قراٰنی''نہ ماننے '' کا حکم
سُوال:قراٰنِ پاک کی کسی آیتِ مبارَکہ کونہ ماننے والے کیلئے کیا حکم ہے؟