| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
میں کثیرہا کثیر حِکمتیں ہوتی ہیں، اُن حکمتوں تک ہماری عقْلِ ناقص کی رَسائی نہیں۔ کبھی بندہ کو پریشانی میں مبتَلا کر کے اس کے گُناہوں کومٹایا یادَرَجات کو بڑھایا جا تا ہے۔بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کہ بندہ کسی کام میں اپنے لئے بِہتری سمجھتاہے حالانکہ وہ کام اِسکے لئے بِہتر نہیں ہوتا ۔ربِّ کریم تَبَارَکَ وتَعَالٰی اپنی حکمتِ عظیم سے اِسے اُس سے بچا لیتا ہے ۔ چُنانچِہ پارہ2 سُورَۃُالبَقَرہکی آیت نمبر 216 میں خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ حکمت نشان ہے:
عَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ؕ
ترجَمۂ کنزالایمان:قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بُری ہو۔ ( پ2 البقرۃ 216)
کاش میری کوئی دُعاء نہ قَبول ہوتی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہماری جن دُعاؤں کی قَبولیّت کا اَثَر دُنیا میں ظاہِرنہیں ہوتا وہ بھی درحقیقت مقبول ہی ہے چُنانچِہ اللہ کے مَحبوب ،دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:دُعاء بندے کی ،تین باتوں سے خالی نہیں ہوتی (1)یا تو جلد ہی اس کی دعا کا نتیجہ (زندگی)میں ظاہرہو