Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
169 - 692
جواب:مذکورہ کلمات ،ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ پر شدید اعتراضات سے پُر اور کفریات سے بھر پور ہیں نیز قائل نے اپنے ایمان سے خود ہی اِنکار بھی کر دیا ہے۔یہ کلمات کہنے والاکافِر ومُرتَد ہے۔
مُصیبت چُھپانے کی فضیلت
 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!تکالیف پرشِکوہ کرنے کے بجائے صَبْر کی عادت بنانی چاہئے کہ شکایت کرنے سے مُصیبت دُور نہیں ہوجاتی بلکہ بے صبری کرنے سے صَبْرکا اَجرضائِع ہو جاتا ہے ۔بِلا ضَرورت مُصیبت کا اِظہار کرنا بھی اچّھی بات نہیں ۔چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم،رسولِ مُحتَشَم،شافِعِ اُمَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:''جس کے مال یا جان میں مُصیبت آئی پھر اُس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں کو اس کی شکایت نہ کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اس کی مغفِرت فرما دے۔''
( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطَّبَرَانِیّ ج 1 ص214حدیث 737 )
داڑھ میں درد کا شِکوہ کرنے والے کو تَنبِیہ
  حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی نَقْل
Flag Counter