Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
165 - 692
 کامیاب ہے، بڑا نازُک مُعامَلہ ہے ،شیطان ہر وَقت ایمان کی گھات میں لگا رَہتا ہے۔ مصیبت آنے پر صَبْر کرتے ہوئے ہر حال میں ربِّ ذوالجلال عَزَّوجَلَّ کی رِضا پرراضی رَہنا چاہئے ۔ پاک پروردگار عَزَّوجَلَّ ہمارا مالِک ومُختار ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے بے حساب جنّت میں داخِل فرمائے اور جسے چاہے امتحان میں مُبتلا کر کے صَبْر کی توفیق عطا فرما کر انعام و اِکرام کی بارِشیں فرمائے۔ مومِنِ کامِل وُہی ہے جو ہر حال میں ربِّ ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ کا شگر گزار بندہ بن کر رہے ۔ مُصیبتوں کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتراض کر کے خود کو ہمیشہ کیلئے جہنَّم کے حوالے کر دینے والا شخص بَہُت ہی بڑا بد نصیب ہے۔ ہر مسلمان کو امتحان کے لئے تیّار رَہنا چاہئے، خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا پارہ2 سُورَۃُالبَقَرہ کی آیت نمبر214 میں فرمانِ عبرت نِشان ہے:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنۡ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوْا مِنۡ قَبْلِکُمۡ ؕ
ترجمۂ  کنزالايمان:کیا اِس گُمان میں ہوکہ جنَّت میں چلے جاؤگے اور ابھی تم پر اَگلوں کی سی رُوْدَاد (حالت)نہ آئی۔
Flag Counter