تو اُس نے قراٰنِ پاک مانگا، ہم نے اُسے دیا تاکہ اس سے بَرَکتیں حاصِل کرے، مگر قراٰن شریف ہاتھ میں لے کر وہ کہنے لگا:''تم سب گواہ ہوجاؤکہ میں قراٰن کے تمام اِعتِقادات واَحکامات سے بیزاری ظاہِر کرتا اورنَصرانی (کرسچین )مذہب اختیار کرتا ہوں۔ ''پھر وہ مرگیا۔اس کے بعد دوسرے بھائی نے تیس برس تک مسجِد میں فی سبیلِ اللہ عَزَّوَجَلَّ اذان دی۔ مگراُس نے بھی آخِری وَقت نَصرانی(یعنی کرسچین )ہونے کا اقرار کیا اور مرگیا۔ لہٰذا میں اپنے خاتِمہ کے بارے میں بے حد فِکر مندہوں اور ہر وقت خاتِمہ بِالخیر کی دعا مانگتا رہتا ہوں۔ حضرتِ سیِّدنا عبد اللہ بن احمد مُؤَذِّن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس سے اِسْتِفْسار فرمایا، کہ تمہارے دونوں بھائی آخر ایسا کون ساگناہ کرتے تھے ؟ اُس نے بتایا، ''وہ غیر عورَتوں میں دلچسپی لیتے تھے اور اَمردوں (یعنی بے ریش لڑکوں)کو (شہوت سے)دیکھتے تھے۔ ''