مگراس نے دنیا کو عالمِ اسباب بنایا اور ہر نعمت میں اپنی حکمتِ بالِغہ کے مطابِق مُختَلف حصّہ رکھا ہے۔ وہ چاہتا تو انسان وغیرہ جانداروں کو بھوک ہی نہ لگتی ، یا بھوکے ہوتے تو کسی کا صرف نام پاک لینے سے ، کسی کا ہوا سونگھنے سے پیٹ بھر تا۔ زمین جو تنے (یعنی ہَل چلانے)سے روٹی پکانے تک جو سخت مَشَقَّتیں پڑتی ہیں کسی کو نہ ہوتیں ۔ مگر اُس(عَزَّوَجَلَّ )نے یونہی چاہا اور اس میں بھی بے شمار اختِلاف(فرق)رکھا۔ کسی کو اتنا دیا کہ لاکھوں پیٹ اس کے دَرسے پلتے ہیں اور کسی پر اس کے اَہل وعِیال کے ساتھ تین تین فاقے گزر تے ہیں۔غرض ہر چیز میں ،