کرام عَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام معصوم ہو تے ہیں وہ ہرگز اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتراض نہیں کرتے۔ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دل میں خیال آنا معاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ بر بِنائے اعتراض نہیں حکمت پر غور کرتے ہوئے تھا، اور آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو حکمت کانوں سے سنانے بتانے کے بجائے آنکھوں سے دکھانے کی ترکیب فرمائی گئی اور وہ یہ کہ فرعون چُونکہ شَقئ اَزَلی (یعنی ہمیشہ کیلئے بد بخت )تھا اس لئے ایمان نہ لایا مگر آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے اُس اَزَلی کافر کے پاس نیکی کی دعوت دینے کا ثواب کمانے کیلئے تشریف لے جانے کی بَرَکت سے70 ہزار جادوگر ایمان لے آئے۔