جواب:اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتِراض سے بچنے کا شریعت میں حکم ہے اور ہر مسلمان کا حکمِ شریعت کے آگے سر ِ تسلیم خم ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ خالِق و مالِک ہے، اُسی عَزَّوَجَلَّ کے پیدا کردہ بندے کا اُس عَزَّوَجَلَّ پر اعتِراض کرنا اُس عَزَّوَجَلَّ کی شدید ترین توہین ہے ۔ مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ اگر اعتِراض کی اجازت دیدی جائے توپھر جس کی سمجھ میں جو کچھ آئے گا وہ کہتا پھرے گا کہ مَثَلاً اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فُلاں کام کیوں کیا ؟ فُلاں کام کیوں نہیں کیا؟ اِس کو یوں نہیں اور یوں کرنا چاہئے تھا وغیرہ وغیرہ ۔ اگرعَقلاً بھی دیکھاجائے تو اعتِراض کرنا غلط ہی ہے کیوں کہ اعتِراض اُس پر قائم ہو تا ہے جس میں کوئی خامی ہویا جو غلطیاں یا غَلَط فیصلے وغیرہ کرتا ہوجبکہ ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کی ذاتِ سِتُودہ صِفات ہر طرح کی خامی و خطا سے پاک ہے ۔ہاں یہ بات جُدا ہے کہ ناقصُ العقل بندہ بعض باتوں کی مصلحتیں نہ سمجھ پائے۔ بَہَرحال مسلمان کو چاہئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہر کام کو مَبنی بر حکمت ہی یقین کرے خواہ اس کی اپنی عقل میں آئے یا نہ آئے۔زَبان پر آناکُجا دل میں بھی اعتِراض کو جگہ نہ دے ۔اِس