اَنکھڑی،نگر سے نگری یا نَگَریا وغیرہ وغیرہ۔صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:بعض اسمائے اِلہٰیّہ جن کا اِطلاق (یعنی بولا جانا)غیرُ اللہ(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا دوسروں)پر جائز ہے ان کے ساتھ نام رکھنا جائز ہے جیسے علی، رشید، کبیر، بَدِیع ۔ کیونکہ بندوں کے( رکھے جانے والے ان)ناموں میں وہ معنیٰ مُراد نہیں جن کا ارادہ اللہ تعالیٰ پر اِطلاق کرنے(یعنی بولے جانے) میں ہوتا ہے اور ان ناموں میں اَلِف ولام ملا کر بھی نام رکھنا جائز ہے مَثَلاً اَلعلی، اَلرَّشید، ہاں اس زمانے میں چونکہ عوام میں ناموں کی تَصغیر کرنے کا بکثرت رَواج ہوگیا ہے لہٰذا جہاں ایسا گمان ہو ایسے نام (رکھنے)سے بچنا ہی مُناسِب ہے ۔خُصُوصاً جب اسمائے الہٰیَّہ کے ساتھ عَبد کا لفظ ملا کر نام رکھا گیامَثَلاً عبدُالرّحیم، عبدُالکریم، عبدُالعزیز کہ یہاں مُضاف اِلیہ(1)سے مُراد اللہ تعالیٰ ہے اور