Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
131 - 692
حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں:مُحاوَرَۂ عَرَب میں عُمُوماً سخی اُسے کہتے ہیں جو خود بھی کھائے اوروں کو بھی کِھلائے ۔ جَواد وہ جو خود نہ کھائے اوروں کو کِھلائے۔ اِسی لیے اللہ تعالیٰ کو سخی نہیں کہا جاتا ہے۔سخی کے مقابِل (OPPOSITE)بخیل ہے(اور بخیل وہ ہے)جو خودکھائے اوروں کو نہ کھلائے ۔جَواد کا مقابِل(OPPOSITE)مُمسِک ہے (اورمُمسِک وہ ہے)جو نہ کھائے نہ کھانے دے۔ اللہ تعالیٰ کی تمام دُنیوی اُخرَوی نعمتیں دُنیا کے لیے ہیں اُس(کی اپنی ذات) کیلئے نہیں۔
(مراٰۃج1 ص 221)
خدا کو رام کہنا کیسا؟
سُوال:خدا عَزَّوَجَلَّ کو رام کہنا کیسا؟
جواب:صدرُ الشَّریعہ بدرُ الطَّریقہ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:خدا کو رام کہنا ہندوؤ ں کا مذہب ہے۔ وہ چُونکہ اسے ہر شے میں''رَما ہوا''یعنی حُلُول (1)کیا ہوا جانتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ

(1)حُلُول یعنی ایک چیز کا دوسری چیز میں اِس طرح داخل ہونا کہ دونوں میں تمیز نہ ہو سکے۔
Flag Counter