Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
128 - 692
 حکمت ہوتی ہے۔ یہ ذِہن مت بنایئے کہ صِرف نیک بندوں ہی پر امتحان آتا ہے ، بسا اوقات گنہگاروں کو بھی مصیبتوں میں مبتلا کر کے اُن کو گناہوں کی آلودَگیوں سے پاک کیا جاتا ہے۔ چُنانچہ۔ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اپنی دلپذیر تقریر میں فرماتے ہیں:حضرتِ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کسی جگہ سے گزر رہے تھے، مُلاحظہ فرمایا، ایک بچّہ کیچڑ میں گر گیا ہے اور اس کے کپڑے و جسم لِتَھڑگئے ہیں، لوگ دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں، کوئی پرواہ بھی نہیں کرتا ۔ کہیں دُور سے ماں نے دیکھا، دوڑتی ہوئی آئی، دو تھپَّڑ بچّہ کے لگائے، کپڑے اُتار کر دھوئے ، اُسے غسل دیا ۔ حضرت(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )کو یہ دیکھ کر وَجد آ گیا اور فرمایا کہ یِہی حال ہمارا اور رحمتِ الہٰی (عَزَّوَجَلَّ )کا ہے۔ ہم گناہوں کی دَلدَل میں لِتھَڑ جاتے ہیں، کسی کو کیا پرواہ! مگر رحمتِ الہٰی (عَزَّوَجَلَّ )کا دریا جوش میں آتا ہے ،ہم کو مصیبتوں کے ذَرِیعے دُرُست کیا جاتا ہے اور توبہ و عبادات کے پانی سے غسل دے کر صاف فرما تا ہے۔مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار