| کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب |
جواب:اللہ تَبَارَکَ وَتَعَا لٰی کی ذات کے لئے لفظ ''اُوپر والا ''بولنا کُفْر ہے کہ اِس لفْظ سے اسکے لئے جِہَت(یعنی سَمت)کا ثُبُوت ہوتا ہے اور اسکی ذات جِہَت (سَمْت)سے پاک ہے جیسا کہ حضرت علَّامہ سعدُ الدِّین تَفْتازَانِی علیہ رحمۃُ اللہ الوالی فرماتے ہیں:''اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مکان میں ہونے سے پاک ہے اور جب وہ مکان میں ہونے سے پاک ہے توجِہَت(یعنی سَمت)سے بھی پاک ہے ، (اِسی طرح )اُوپر اور نِیچے ہونے سے بھی پاک ہے ۔"
(شرحُ الْعقائدص60)
اور حضرتِ علامہ ابنِ نُجَیم مِصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نقل فرماتے ہیں :''جواللہ عَزَّوَجَلّ کو اُوپر یا نِیچے قرار دے تو اُس پر حکمِ کُفر لگایا جائے گا۔ ''
( اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج 5 ص 203)
لیکن اگر کوئی شخص یہ جملہ بُلندی و برْتَری کے معنیٰ میں استعمال کرے تو قائِل پر حُکْمِ کفر نہ لگائیں گے مگر اِس قَول کو بُرا ہی کہیں گے اورقائِل کو اِس سے روکیں گے ۔
(فتاویٰ فیض الرسول ج1 ص2)
''اللہ مسجِد،مندَر ہر جگہ ہے ''کہنا
سُوال:کسی نے کہا :اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر جگہ ہے، کعبہ میں بھی ہے، مسجد میں بھی