انتقال ہوا۔ بعد وفات انکے منہ سے پاخانہ نکلتے دیکھا گیا جو حاضرین کی عبرت کا باعث ہوا ۔مرزا غلام احمد قادیانی کے خلفاء اس صورت حال کی تردید کرتے رہے والعلم عند اللہ عزوجل۔
۱۸۸۶ء میں مرزا نے اپنی نبوت کی بنیاد رکھنا شروع کی جو کہ گول مول الہام اور کشف وغیرہ پر مبنی تھی جو کہ براہین احمدیہ میں موجود ہے یادر رہے براہین احمدیہ اور تحذیر الناس ( مدرسہ دیوبند ) بیک وقت لکھی گئیں نیز علی گڑھ کالج کا اجراء ،مدرسہ دیوبند کی تاسیس اور براہین احمدیہ کی تصنیف کا زمانہ بھی ایک ہی ہے گویا انگریزوں نے بیک وقت چار فتنے دیوبند، قادیان ، علی گڑھ و دہلی سے کھڑے کردئیے مگر مرزا غلام قادیانی سب پر بازی لے گیا کہ نبوت کا دعویٰ کرکے دجالوں میں اپنا نام لکھوایا اپنی دنیا سنبھالنے کی خاطر کروڑوں مسلمانوں کی عاقبت برباد کی چنانچہ ۱۸۸۶ء کے کشف و الہام کے دعاوٰی کے بعد ایک نیا مکسچر ظلی و بروزی نبی کے نام سے تیار کیا چنانچہ ۱۸۹۰ میں یہ کہنا شروع کیا کہ مسیح موعود اور ابن مریم، میں خود ہوں چنانچہ خود لکھتا ہے '' مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا ( کشتی نوح ص ۴۷ ) اور مسیح موعود کے متعلق لکھتا ہے : میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدائے تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشن گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانے میں ظاہر ہوگا ( تحفہ گولڑویہ ص ۱۹۵ ) ۔
موصوف نے اپنی ظلی و بروزی کی منطق کا ہیرپھیر لفظوں کی چکر بازی میں