Brailvi Books

کتابُ العقائد
60 - 64
بہاء اللہ کے بعد پہلے تمام انبیاء کی شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں اور اب صرف بہائی شریعت پر عمل کرکے ہی نجات مل سکتی ہے ( معاذ اللہ) (۲) بہائیوں کے نزدیک بہاء اللہ ہی خدا ہے جس نے انسانیت کا جامہ پہن لیا تھا چنانچہ بہاء اللہ کا اپنے بارے میں دعوی تھا کہ وہ اپنے کاموں کے لیے کسی کے سامنے جوابدہ نہیں اور سب اس کے سامنے جوا بدہ ہیں نیز وہ کہتا کہ وہ زندگی کا میدان ہے وہ اللہ ہے وہ تمام اسماء الٰہی اور صفات کا منبع ہے خود ہی ذاکر اور خود ہی مذکور ہے جو موسیٰ سے کوہ طور پر ہم کلام ہوا تھا(۳) بہائی سال میں پانچ عیدیں مناتے ہیں (۱) عید رضوان بہاء اللہ کے ظہور (۲) عید باسط باب (۳) عید میلاد بہاء اللہ (۴) عید میلاد باب (۵) عید نوروز ۔ بہائیت کی تعلیمات میں اخفائے راز کو ہمیشہ اہمیت دی گئی ہے ان کے ہاں دولت ، سفر، منزل مقصود اور مذہب چھپانے کی تلقین کی جاتی ہے ان کا رئیس اعلیٰ ہمیشہ بہاء اللہ کی اولاد سے ہی ہوتا ہے ۔
مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا غلام قادیانی ۱۸۳۹ یا ۱۸۴۰ء کو پیدا ہوا ابتدائی تعلیم مولوی گل علی شاہ سے حاصل کی کچھ عرصے اپنے والد کے ساتھ انگریزی کچہریوں کے چکر بھی لگائے آبائی پیشہ زمینداری تھا آباؤ اجداد سکھوں اور انگریزوں کے وفادار ملازم رہتے آئے تھے والد کا نام غلام مرتضیٰ تھا مرزا غلام قادیانی انگریزی اور عربی میں ابجد خواں تھا اس نے قانون کا امتحان دیا مگر فیل ہونے پر تعلیم سے دل اچاٹ ہوگیا کمزوری دل و دماغ کا مرض پوری عمر جولانی سے رہا تشنج قلب ، اسہال، درد سر ، مالیخولیا ، شوگر وغیرہ امراض موصوف کی زندگی کے ساتھی تھے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء کو لاہور میں موصوف کا شدت اسہال یا ہیضہ سے
Flag Counter