بہاء اللہ کے بعد پہلے تمام انبیاء کی شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں اور اب صرف بہائی شریعت پر عمل کرکے ہی نجات مل سکتی ہے ( معاذ اللہ) (۲) بہائیوں کے نزدیک بہاء اللہ ہی خدا ہے جس نے انسانیت کا جامہ پہن لیا تھا چنانچہ بہاء اللہ کا اپنے بارے میں دعوی تھا کہ وہ اپنے کاموں کے لیے کسی کے سامنے جوابدہ نہیں اور سب اس کے سامنے جوا بدہ ہیں نیز وہ کہتا کہ وہ زندگی کا میدان ہے وہ اللہ ہے وہ تمام اسماء الٰہی اور صفات کا منبع ہے خود ہی ذاکر اور خود ہی مذکور ہے جو موسیٰ سے کوہ طور پر ہم کلام ہوا تھا(۳) بہائی سال میں پانچ عیدیں مناتے ہیں (۱) عید رضوان بہاء اللہ کے ظہور (۲) عید باسط باب (۳) عید میلاد بہاء اللہ (۴) عید میلاد باب (۵) عید نوروز ۔ بہائیت کی تعلیمات میں اخفائے راز کو ہمیشہ اہمیت دی گئی ہے ان کے ہاں دولت ، سفر، منزل مقصود اور مذہب چھپانے کی تلقین کی جاتی ہے ان کا رئیس اعلیٰ ہمیشہ بہاء اللہ کی اولاد سے ہی ہوتا ہے ۔