یوں بھی دکھایا ہے کہ اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے ،اور میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے۔ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کاکامل انعکاس ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعوٰی کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد ، احمد، مصطفی اور مجتبیٰ نہ رکھتا( نزول المسیح ص ۲ ) یہ تو ظل ہونے کے بارے میں ہے ۔بروزی کا فارمولا بھی ملاحظہ فرمائیے لکھتا ہے :مجھے بروز ی صورت میں نبی و رسول بنایا ہے اور اس بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان میں نہیں بلکہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہے اسی لحاظ سے میرا نام محمد او رحامد ہوا پس نبوت و رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی ( نعوذ باللہ )( ایک غلطی کا ازالہ )۔
اس کے بعد مرزا قادیانی نے اور ترقی کی یہاں تک کہ ۱۹۰۱ء میں حقیقی نبوت کا دعوی کردیا چنانچہ لکھتا ہے: ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول (یعنی مرزاغلام ) کو قبول نہ کیا ۔مبارک وہ، جس نے مجھ کو پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور اس کے نوروں میں سے آخری نور ہوں بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے ۔ (کشتی نوح ص ۵۶)
یہ شخص انبیاء کرام کا نہایت گستاخ تھا چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتا ہے : عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ ظاہر نہ ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا اسی روز سے شریفوں نے