بات تھی چنانچہ حکومت ایران نے ترکی کی حکومت کو لکھا کہ بہاء اللہ کو بغداد سے کسی دوسری جگہ بھیج دیا جائے کیونکہ بغداد ایرانی سرحدوں کے قریب ہے اور بہاء اللہ وہاں ضعیف الاعتقاد اور جاہل لوگوں کو خفیہ طور پر گمراہ کرنے کی کوششیں کررہا ہے چنانچہ دونوں حکومتوں کے باہمی مشورے سے بہاء اللہ کو اسکے اہل خانہ اور پیروکاروں سمیت بغداد سے قسطنطنیہ منتقل کردیا گیا یظہر اللہ کے دعوے کے وقت بہاء اللہ کی عمر تقریبا پچاس سال تھی بغداد سے قسطنطنیہ منتقل ہوتے وقت اس نے ایک باغ میں بارہ روز قیام کیا اس باغ کو بہائی باغ رضوان کہتے ہیں اور ان دونوں کو ایام عہد رضوان سے موسوم کیا جاتا ہے قسطنطنیہ میں بہاء اللہ کا قیام چارماہ رہا پھر اس نے '' اورنہ '' کی طرف کوچ کیا '' اورنہ '' کو بہائی ارض السم کہتے ہیں کیونکہ یہاں قیام کے دوران ہی اس نے اپنے مخفی راز جو اب تک دل میں چھپائے تھا آشکار کردیے تھے یہاں اس نے اپنے دعوے کی راہ ہموار کرلینے کے بعد بابیوں کو دعوت دی کہ اسے یظہر اللہ تسلیم کریں مگر اس کے بھائی سمیت بعض دوسرے بابیوں نے اس سے بھر پور اختلاف کیا نتیجۃً بابی تحریک دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی چونکہ صبح ازل قدامت پسند تھا لہٰذا وہ اور اسکے ماننے والے اسی بابی تحریک پر مصررہے جبکہ بقیہ بہاء اللہ کے اتباع کی وجہ سے بہائی کہلانے لگے جب ان دونوں گروہوں کا تصادم بڑھ گیا تو ترکی حکومت نے صبح ازل کو قبرص اور اس کے بھائی کو عکہ پہنچادیا جہاں بہاء اللہ اور اس کے متبعین کو عکہ شہر کے قلعے میں قید کردیا گیا بعد میں ان کے قیام کے لیے کئی مختلف جگہیں بدلی گئیں آخر اسی قید و بند میں بہاء اللہ مر گیا۔
اب اس فرقے کے عقائد ملاحظہ فرمائیے (۱) انکے نزدیک بہاء اللہ کی آمد کے بعد انبیاء کا دور ختم ہوچکا ہے اور یہ دور حضرت آدم علیہ السلام سے بہاء اللہ تک ہے اس