| کرنسی نوٹ کے شرعی احکام |
اور" دست بدست" کے معنی تعیّن کیونکر نہ ہو! حالانکہ ہمارے اصحاب نے فرمایا ہے کہ" قبضہ طرفین فقط بیع صَرف میں شرط ہے اور جہاں تک اس کے علاوہ بُیوْع یعنی خرید وفروخت کی دوسری صورتوں کا تعلق ہے جن میں سودجاری ہو سکتا ہے ان میں فقط تعین شرط ہے" جیسا کہ" ہدایہ" وغیرہ میں ہے۔
("الھدایۃ"، کتاب البیوع، باب الربا، ج۳، ص۶۲)اور "تنویر الابصار" میں ہے کہ "جس مال میں سود کا احتمال ہو وہاں بیع صَرف کے علاوہ ہر قسم کی بیع میں فقط مال کے معین ہونے کا ہی اعتبار ہے، قبضہ طرفین شرط نہیں"۔
(" تنویر الأبصار" مع"الدر المختار"، کتاب البیوع، باب الربا، ج۷، ص۴۳۰)" در مختار" میں اس عبارت کی شرح میں فرمایا:" یہاں تک کہ اگر گیہوں کے بدلے گیہوں بیچے اور دونوں کو معین کردیا اور قبضہ کئے بغیر جدا ہوگئے تو جائز ہے"۔
("الدر المختار" شرح" تنویرالأبصار"، کتاب البیوع، باب الربا، ج۷، ص۴۳۰)لہٰذا اگر امام محمد- علیہ الرحمۃ- کے اس قول کو عبارتِ مذکورہ میں قبضہ طرفین پر محمول کیا جائے اور اس سے مراد یہ لی جائے کہ پیسوں کے بدلے پیسے بیچنے کی صورت میں قبضہ طرفین شرط ہے تو جن کے نزدیک یہ قید
(Limitation)
تمام مسائل کی طرف راجع
(Inclined)
ہے ان کے نزدیک کھجوروں انڈوں اور اخروٹوں کو آپس میں بیچنے کی صورت میں بھی قبضہ طرفین کا شرط ہونا لازم آئے گا، مثلاً صاحب" نہر الفائق"