Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
99 - 199
اور" در مختار" وغیرہما ؛کیونکہ ان تمام مسائل کو ایک ہی طریقے سے بیان کیا گیا ہے، خاص طور پر " جامع صغیر "کی عبارت میں؛ کیونکہ اس میں تو اس قیدکو کھجور کی بیع کے بعد ذکر کیا گیا ہے اور پیسوں کی خرید وفروخت کا ذکر مذکورہ قید سے پہلے ہے، حالانکہ ائمہ میں سے یہ قول کہ" انڈوں یا اخروٹوں کی آپس میں بیع کے وقت قبضہ طرفین شرط ہو" کسی کا بھی نہیں ہے، لہٰذا" یداً بید" کو تعین کے شرط ہونے پر محمول کرنا واجب ہے تاکہ امام محمد- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- کا ارشاد کہ" معین ہوں" اس "دست بدست" کی تفسیر ہوجائے، ورنہ اس کلام کا کوئی فائدہ نہ ہوگا؛ کیونکہ قبضہ طرفین میں تعین کی قید بلاو جہ کی زیادتی ہے، اس لئے بعد میں اس کا ذکر کرنافضول ہے، لہٰذا جب امام برھان الدین مرغینانی صاحب" ہدایہ" -رحمۃ اﷲ علیہ -نے "جامع صغیر "سے اس مسئلہ کو نقل کیا تو "دست بدست" کا لفظ اس سے ساقط فرمادیا اورصِرف تعین کا ذکر کیا۔

اور لکھا کہ" امام محمد- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- نے فرمایا: کہ ایک انڈہ دو انڈوں کے عوض ایک کھجور دو کھجوروں کے عوض اور ایک اخروٹ کو دو اخروٹ کے عوض بیچنا جائز ہے، نیز ایک پیسہ کو دو معین پیسوں کے عوض بیچنا بھی جائز ہے"۔
("الھدایۃ"، کتاب البیوع، باب الربا، ج۳، ص۶۳)
    لہٰذا روزِ روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ" جامع صغیر "کا کلام اس بات پر بالکل دلالت نہیں کرتا جسے ان اکابر علماء نے سمجھا، اور اگر فرض کرلیا جائے کہ" جامع صغیر "کا
Flag Counter