| کرنسی نوٹ کے شرعی احکام |
رطل چربی کو یا ایک انڈے کو دو انڈوں یا ایک اخروٹ کو دو اخروٹ یا ایک پیسے کو دوپیسوں یا ایک چھوہارے کو دو چھوہاروں کے عوض نقد دست بدست بیچا، اور دونوں معین ہوں تو یہ بیع جائز ہے، اور یہی قول امام ابو یوسف- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- کا بھی ہے، جبکہ امام محمد-رضی اﷲ تعالیٰ عنہ -فرماتے ہیں کہ ایک پیسے کو دو پیسوں کے عوض بیچنا جائز نہیں، ہاں! ایک چھوہارے کو دو چھوہاروں کے بدلے بیچنا جائز ہے"۔ (الجامع الصغیر)
یداً بِیَدٍ (دست بدست)کی تحقیق
بہرحال ان کا قول یعنی" دست بدست" ہی اصل دلیل ہے مگر علمِ فقہ میں مہارت رکھنے والے پر یہ بات عیاں ہے کہ یہ لفظ ("دست بدست") قبضہ طرفین کے شرط ہونے پر نصِّ صریح نہیں ہے (کیونکہ قبضہ طرفین سے مراد یہ ہے خرید نے اور فروخت کرنے والے دونوں افرادثمن اور مبیع پرقابض ہو جائیں )کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارے علماء کرام -رحمہم اﷲ -نے سود والی مشہور حدیث میں" دست بدست" سے دونوں چیزوں کا معین ہونا مراد لیا ہے۔
جیسا کہ" ہدایہ" میں ہے کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد
" د ست بدست" کے معنی یہ ہیں کہ" دونوں جانب تعین ہو جائے" یعنی کسی طرف سے دَین(Financial Claim)
نہ ر ہے، اور عبادہ بن صامت - رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- نے اسی طرح روایت فرمایا۔
( "الھدایۃ"، کتاب البیوع، باب الربا، ج۳، ص۶۳)