Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
94 - 199
    الغرض مسئلہ ظاہر ہے اور اس کے بارے میں نقلیں وافر ہیں، اگرچہ علامہ قاری الہدایہ نے اپنے" فتاوی" میں اس کی مخالفت فرمائی ،اور دونوں جانب کا قبضہ
(Custody from both sides)
 شرط فرمایا، اور کسی طرف سے بھی ادھار
(Credit)
 ہونے کو حرام ٹھہرایا ہے، اس کی عبارت یہ ہے کہ" سوال: ایک مثقال سونا پیسوں کی ڈھیری کے بدلے اُدھار بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟جواب: پیسوں کو سونے یا چاندی کے بدلے ادھار بیچنا ناجائز ہے؛کیونکہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ایسی دو چیزیں جو تول کر بیچی جاتی ہوں (جیسے سونا، چاندی، تانبا) ان میں سے ایک کی دوسرے کے بدلے بیعِ سلم جائز نہیں، مگر جبکہ تول کر دی جانے والی ادھارچیزجو بذریعہ سلم وعدہ پر لینی ٹھہری ہے مبیع ہو، ثمن کی قسم سے نہ ہوجیسے زعفران، اور پیسے جنسِ مبیع سے نہیں ہیں بلکہ انہیں ثمن بنالیا گیا ہے"۔
 (" فتاوٰی قاری الھدایۃ"، مسألۃ في الرّبا، ص۲۸)
جب علامہ حانوتی سے پیسے کو سونے کے بدلے میں ادھار بیچنے کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے اس کاردّ
( Repulse)
 فرمایا اور جواب دیا کہ"یہ جائز ہے"۔ جبکہ دونوں میں سے ایک پر قبضہ ہوگیا ہو؛ کیونکہ" بزازیہ" میں ہے کہ" اگر ایک روپے کے بدلے میں سو پیسے خریدے تو ایک طرف سے قبضہ ہوجانا کافی ہے"پھر فرمایا:" اسی طرح سونے اور چاندی کو پیسوں کے بدلے بیچنا جائز ہے" جیسا کہ" بحر" میں " محیط "
Flag Counter