| کرنسی نوٹ کے شرعی احکام |
ہڈیاں پاک ہیں، چنانچہ پانی کی ناپاکی کا حکم نہیں دیا جائے گا )فرماتے ہیں کہ اگر واپس دیئے ہوئے پیسے تھوڑے ہوں اور اسی مجلس میں بدل لئے جائیں تو عقد اصلاً باطل نہ ہو گا اور اس تھوڑے سے کتنے پیسے مراد ہیں اس سے متعلق امام صاحب سے مختلف اقوال مروی ہیں، ایک قول میں ہے کہ نصف سے زائد کثیر ہیں اور اس سے کم قلیل، دوسری روایت میں ہے کہ نصف بھی کثیر ہیں، تیسری روایت میں ہے کہ تہائی سے زائد ہوں تو کثیر ہیں۔
("الفتاوٰی الھندیۃ"، کتاب الصرف، الباب الثاني، الفصل الثالث في بیع الفلوس، ج۳، ص۲۲۵،۲۲۶،ملتقطاً)ہم نے" ذخیرہ" کے حوالے سے بکثرت نقول اس لئے ذکر کیں کہ عنقریب ایک نقل ایک پیسہ کو دو پیسوں کے بدلے میں بیچنے کے خلاف آئے گی، لہٰذا یہ بات یاد رہے کہ صاحب "ذخیرہ" نے ہمارے اس مسئلہ یعنی (پیسوں کو روپے کے بدلے بیچنے) کے بارے میں بہت سی جگہ جائز ہونے کا فیصلہ فرمایا ہے اور یہاں اس مسئلے کے خلاف کوئی بات بھی ذکر نہ فرمائی نیز" تنویر الابصار" اور" درمختار "میں ہے کہ" اگر کسی نے پیسوں کو پیسوں یا روپوں یا پھر اشرفیوں کے بدلے میں بیچا تو اگر ایک طرف سے قبضہ ہوگیا تو یہ بیع جائز ہے اور اگر کسی ایک کے بھی قبضہ کرنے سے پہلے دونوں جدا ہوگئے تو بیع جائز نہیں"۔
("الدر المختار" شرح "تنویر الأبصار"، کتاب البیوع، باب الرّبا، ج۷، ص۴۳۳)