Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
95 - 199
سے ہے، پھر فرمایا کہ "فتاویٰ قاری الہدایہ" کے قول سے دھوکہ نہ کھایا جائے۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الرّبا، مطلب: في استقراض الدراھم عدداً، ج۷، ص۴۳۳)
  " نہر الفائق "میں اسی اعتراض کا یہ جواب دیا گیاکہ"فتاوی قاری الہدایۃ" کی یہاں بیع سے مراد بدلی یعنی بیعِ سلم
(V.alivrer)
 ہے ؛کیونکہ پیسے ثمن سے مشابہت رکھتے ہیں، اور ثمن کی ثمن سے بیعِ سلم درست نہیں ہے اور اس حیثیت سے کہ پیسے اصل میں متاع
(Chattel)
ہیں چنانچہ ایک جانب سے قبضہ کرلینا کافی ہے۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الرّبا، مطلب: في استقراض الدراھم عدداً، ج۷، ص۴۳۳)
میں کہتا ہوں کہ: ان کی دلیل سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ جو چیزیں وزن کرکے بیچی جاتی ہیں ان میں بیعِ سلم جائز نہیں ...الخ۔

مگر علامہ ابن عابدین نے "رد المحتار" میں اسی کو کافی نہ جانا بلکہ مزید فرمایا کہ "علامہ قاری الہدایہ کا کلام" جامع صغیر "سے مفہوم کلام ( دونوں طرف سے قبضہ شرط ہے) پر محمول ہے"۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الرّبا، مطلب: في استقراض الدراھم عدداً، ج۷، ص۴۳۳)
مزید فرمایا کہ" اب "بزازیہ" کے مذکورہ مسئلہ سے اعتراض وارد نہیں ہوگا کیونکہ وہ اُس کلام پر محمول ہے جو امام محمد کی"ـ مبسوط" میں ہے "۔

اور اس قول سے کچھ پہلے علامہ شامی- علیہ الرحمۃ- نے " بحر" و" ذخیرہ" کے حوالے
Flag Counter