گیہوں دو مٹھی گیہوں کے بدلے بیچنا جائز ہے" اسی اصول کے تحت نکالا گیا ہے۔
جبکہ محقق نے" فتح القدیر" میں اس مسئلہ کا رد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ" اس پر دل مطمئن نہیں ہوتا۔بلکہ جب سود کی حرمت لوگوں کے مال کی حفاظت کے لئے ہے توواجب ہے کہ دو سیب کے بدلے ایک سیب اور دو مٹھی کے بدلے ایک مٹھی گیہوں بیچنا حرام ہو، اور اگر کسی علاقے میں نصف صاع سے چھوٹے پیمانے پائے جاتے ہوں (جیسا کہ ہمارے ہندوستان میں صاع کا چوتھائی اور آٹھواں حصہ بھی مقرر ہے) پھر تو اس زیادتی کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، اور یہ کہنا کہ" شریعتِ مطہَّر ہ نے مالی واجبات مثلاً کفَّارہ اور صدقہ فطر میں جو پیمانے مقرر فرمائے ہیں ان میں نصف صاع سے کم کوئی پیمانہ