| کرنسی نوٹ کے شرعی احکام |
شاید"قنیہ" نے یہ مسئلہ اس بنا پر بیان کیا ہو کہ ان کے زمانے میں پیسے سے کم قیمت کوئی ثمن
(Currency)
نہ تھی یا صاحب "قنیہ" نے شرعِ مطہَّر کے مقرر کردہ اندازے میں سے پیسہ سے کم کسی اور کرنسی کو نہ پایا تو یہ حکم لگادیا کہ جو چیز پیسے سے کم کی ہے وہ کچھ نہیں، جیسے" فتح القدیر" میں "اسرار" کے حوالے سے منقول ہے کہ جو سونا اور چاندی رَتی بھر سے کم ہو اس کی کوئی قیمت نہیں۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الرّبا، مطلب في الإبراء عن الرّبا، ج۷،ص۴۲۶،)کیونکہ ان علماء نے چاندی اور سونا کے لئے رَتی سے کم کسی پیمانے کو نہیں دیکھا تھا، جبکہ ہمارے علاقے میں اس کا پیمانہ
(Measure)
رتی کے آٹھویں حصے (ایک چاول ) تک معروف ہے اور ہمارے علاقے میں آجکل چاول کے برابر سونے کی قیمت دو پیسے (عرب میں رائج سکہ ہللہ کے برابر) ہے اور بلاشبہ یہ سونا جو چاول کے برابر ہے قیمت والا مال
(Valuable Property)
ہے چہ جائیکہ اس سے زیادہ جو چوتھائی رَتی یا نصف رَتی اور اس سے زائد سونا ہو۔
نیز بہت سے علماء کرام فرماتے ہیں کہ جو چیز نصف صاع سے کم ہو وہ اندازے(Measurement)
سے باہر ہے، لہٰذا اس صورت میں ایک چیز اپنی ہی جنس کے عوض کمی بیشی سے بیچنا جائز ہے، اور وہ مسئلہ کہ" ایک مٹھی
(Hand Ful)