Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
52 - 199
اور اگر تحقیقی نظر سے دیکھا جائے تو بذات خود یہی قول کرنسی نوٹ کی اصل ہے (۱) جسے امام ابن ھمام- رضی اﷲ عنہ- نے نوٹ ایجاد ہونے سے ۵۰۰ سال پہلے ہی پیش فرما دیا تھا، اور نوٹ بھی تو کاغذ کا وہی ٹکڑا ہے جو ہزار روپے میں بکتا ہے اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ،ایسی کرامات
 (Miracles)
تو ہمارے علماء کرام -رحمہم اﷲ-سے صادر ہوتی ہی رہتی ہیں، اﷲ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت میں انکی برکات سے فیضیاب فرمائے۔۔۔۔۔۔!

                            آمین۔۔۔۔۔۔!

    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ نوٹ بذاتِ خود ایک قیمت والا مال ہے اس کی خرید و فروخت ہوتی ہے، اور اسے ہبہ
 (Donate/Gift)
کیا جاتا ہے ،اور نوٹ میں وراثت
 (Inheritance)
بھی جاری ہوتی ہے، نیز مال کے تمام احکامات بھی اس پر جاری ہوتے ہیں۔
 		نوٹ کے رسید ہونے کا مطلب
    میں کہتا ہوں کہ یہ گمان بالکل غلط ہے کہ نوٹ تحریری اقرار نامہ کی طرح کوئی رسید ہے۔ رسید کا مطلب یہ ہے کہ جو گورنمنٹ اسے رائج کرتی ہے وہ نوٹ لینے والوں سے (سونا یا چاندی) کے روپے قرض لیتی ہے، اور انہیں ثبوت کے طور پر قرض کی مالیت کے نوٹ دے دیتی ہے اور جب وہ لوگ گورنمنٹ کو نوٹ واپس کردیں تو گورنمنٹ انکا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

۱۔۔۔۔۔۔ یعنی اسی ارشاد سے کرنسی نوٹ کے شرعی حکم کا پتا چل جاتاہے۔
Flag Counter