اور اسی" فتاویٰ شامی" میں "بحر الرائق" اور" الحاوی القدسی" کے حوالے سے منقول ہے کہ " آدمی کے علاوہ ہر وہ چیز مال کہلاتی ہے جسے آدمی کے فائدے کے لئے پیدا کیا گیا ہو اور اسے حفاظت سے رکھا جانا ممکن ہو اور آدمی اسے اپنی مرضی سے استعمال کرسکے"۔
( "ردّ المحتار"،کتاب البیوع، مطلب: في تعریف المال والملک المتقوم، ج۷،ص۸،)
محقق علی الاطلاق علامہ ابن الھمام "فتح القدیر" (۱)میں فرماتے ہیں کہ" اگر کوئی اپنے کاغذ کا ایک ٹکڑا ہزار روپے میں بیچے تو یہ بیع بلا کراہت جائزہے"۔
("فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔۔۔۔۔۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب" ہدایہ" کی شرح۔