کے بدلے میں بیچنا جائز ہے؟
جواب: چونکہ بعض لوگوں کے نزدیک نوٹ مال نہ تھا، بلکہ یہ تو سونے چاندی کی رسید تھی، لہذا اس کے ذریعے سے سونے چاندی کی خریدوفروخت کرنا جائز نہیں تھی، جیساکہ ہم نے ابتدائی سطور میں اس بات کوذکر کیا ہے ۔ لہذا اس سوال سے لوگوں کے غلط فتوی کی و جہ سے پیداہونے والے وہم کا ازالہ مقصودتھا، چنانچہ امام اہلسنت مجدّدِ دین وملت رحمہ اللہ تعالی نے نہ صرف اس وہم کا ازالہ فرمایابلکہ اس کے علاوہ وارد ہونے والے ایک اعتراض کا جواب بھی پیشگی دیدیا۔وہ اعتراض کچھ اس طرح سے ہے کہ بیچی جانے والی شے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مال متقوم ہواور اس کی کم از کم قیمت ایک پیسہ ہو، جبکہ نوٹ میں جو کاغذ استعمال ہوتا ہے اس کی قیمت ایک پیسے کے برابر بھی نہیں ہوتی،لہٰذا نوٹ کی خریدوفروخت درست نہیں ہونی چاہیے۔
آپ رحمہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایاکہ نوٹ سے سونے کی اشرفیاں اور چاندی کے سکے یعنی دراہم خریدناجائز ہے، جیسا کہ تمام شہروں میں ا س پر عملدر آمد ہے۔اور دوسرے اعتراض کوچار طریقوں سے رفع فرمایا۔
اول : اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ شے کی اصل مالیت کا اعتبار نہیں، بلکہ آج کل اس کی جو قیمت ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا ،چنانچہ فرماتے ہیں : اصل کے لحاظ سے اگرچہ وہ کاغذ کا ٹکڑا واقعی ایک پیسے کا بھی نہیں، لیکن اصطلاحی طور پر تو آج اس کی مالیت سو یا ہزار روپے کی ہے، لہٰذا موجودہ مالیت کو دیکھا جائے گا نہ یہ کہ اصل میں کیا ہے۔
دوم : مٹی کے برتن مسلمانوں میں بکتے اور خریدے جاتے ہیں ان کی اصل مٹی ہے اور مٹی مال نہیں۔