| کرنسی نوٹ کے شرعی احکام |
سوم : خود دھات کے بنے ہوئے پیسے کی جو مروّجہ قیمت ہے وہ اس کی اصل کے لحاظ سے نہیں، یوں تو پیسے کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں رہتی کہ اصل کے لحاظ سے خود پیسے کی قیمت بھی ایک پیسہ نہیں ہے۔ چہارم : عالم دین کی شرعاً عقلاً عرفاً تعظیم کی جاتی ہے حالانکہ اصل میں وہ بھی دوسرے آدمیوں کی طرح بے خبر پیدا ہوا تھا۔ مزید برآں'' کفایہ''،'' فتح القدیر''،'' رد المحتار''،'' بحر الرائق''،'' کشف کبیر''،''تنویر الابصار''،'' قنیہ''،'' ظہیریہ''،''درر وغرر''،'' غنیہ''،'' شرنبلالی''،'' طحطاوی ''اور ''در مختار ''وغیرہا کتب سے اس مسئلے کا تسلی بخش اور مدلل جواب دیا۔ سوال نمبر ۷: اگر نوٹ کے عوض کپڑے خریدے جائیں تو یہ خرید و فروخت بیع مطلق
(Absolute Sale)کہلائیگی یا مقایضہ (Barter Sale)؟
جواب: نوٹ ثمن اصطلاحی ہے ،توکپڑے سے اس کا بدلنا مقایضہ نہ ہوگا، بلکہ بیع مطلق ہوگا، اور خاص وہی نوٹ دینا لازم نہ آئے گا، بلکہ پیسوں کی طرح ذمہ پر لازم ہوگا۔ سوال نمبر ۸: کیا اس نوٹ کو بطور قرض دینا جائز ہے اگر جائز ہے؟ تو ادائیگی قرض کے وقت نوٹ ہی واپس کیے جائیں گے یا چاندی کے روپے بھی دیئے جاسکتے ہیں؟ جواب: نوٹ قرض دینا جائز ہے؛ کیونکہ نوٹ مثلی شے
(Similar Thing)
ہے، اور اس کی ادائیگی مثلی اشیاء ہی سے کی جائے گی، بلکہ ہر قرض اپنی مثل ہی سے ادا کیا جاتا ہے۔ ہاں البتہ!اگر قرض دیتے وقت شرط نہ کی گئی تھی، بلکہ ادائیگی کے وقت اداکرنے والے نے کسی اور صورت میں ادائیگی کرناچاہی اور لینے والا بھی راضی ہوگیا تو جائز ہے۔ سوال نمبر ۹ : کیا کرنسی نوٹ کو چاندی کے روپوں کے بدلے میں ایک معین مدت تک کے