ہے؟
جواب : سیدی اعلی حضرت ،امام اہلسنت رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سوال کے جواب میں کسی انسا ئیکلوپیڈیا
یا اکنامکس کی کتاب کا حوالہ دینے کے بجائے بحیثیت فقیہ وامام وشیخ الاسلام فقہی اصول و قوانین کی رو شنی میں ارشاد فرمایا کہ: "نوٹ کی حقیقت کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جو مالِ متقَوّم
ہونے کی و جہ سے لوگوں کی رغبت اس کی طرف بڑھ گئی اور یہ حاجت وضرورت کے وقت کام آنے والی اور ضرورت کے لئے سنبھال کر رکھی جانے والی چیز ہوگئی۔'' رد المحتار ''،'' بحر الرائق'' ، ''اور تلویح ''میں" مال" کی یہی تعریف کی گئی ہے لہٰذا نوٹ شرعاً، عقلاً اور عرفاً "مال "ہے، نہ کہ تمسّک یا رسید
وغیرہ۔
چنانچہ علامہ کمال الدین عبد الواحد ابن ہمام''فتح القدیر'' میں فرماتے ہیں :
''لو باع کاغذۃ بألف یجوز و لا یکرہ''۔
(فتح القدیر ، کتاب الکفالۃ ، ج ۶، ص۳۲۴)
ترجمہ: ''اگرکوئی شخص اپنے کاغذ کا ایک ٹکڑا ہزار روپے کے بدلے میں بیچے تو یہ خرید وفروخت بلاکراہت جائز ہے''۔