Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
32 - 199
     چنانچہ صاحب "در مختار" امام علاؤالدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی اس مسئلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
     ''(باع فلوساً بمثلھا أو بدراھم أو بدنانیر،فإن نقد أحدھما جاز) و إن تفرقا بلا قبض أحدھما لم یجز''
(''الدر المختار''،کتاب البیوع،باب الربا، ج ۷ ، ص ۴۳۳)
    ترجمہ: '' اگر کسی نے فلوس کوفلوس کے عوض یادرہموں یادیناروں کے عوض بیچا پس ان میں سے کسی ایک پر قبضہ ہوگیاتوجائز ہے ،اوراگرجانبین میں سے کسی ایک پر بھی قبضہ نہ ہوا تو جائز نہیں ہے''۔

    کیونکہ نوٹ عددی (گِن کر خریدی اور بیچی جانے والی چیز) ہے اور عددی میں کمی بیشی جائزہے
کماقالوا ساداتنا الحنفیۃ رحمھم اللہ تعالی:     "لا ربا في معدودات''
 (''بدائع الصنائع''،کتاب البیوع،رباالنسیئۃ،ج۴،ص۴۰۴،۴۰۶،ملخصاً)
     یعنی" شمارکرکے بیچی جانے والی اشیاء میں سود نہیں ہوتا"۔ 

    نیز مختلف ممالک کے کرنسی نوٹ کی جنسیں مختلف ہونے کی وجہ سے ان میں ادھار بھی جائزہے، جیساکہ صاحب "ہدایہ" رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں :
"وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنی المضموم إلیہ حلّ التفاضل والنسأ"
 ("الھدایۃ"،کتاب البیوع ، باب الربا ، الجزء الثالث ،ص ۶۲)
    ترجمہ :" اور جب سود کی دونوں ہی علتیں یعنی جنس اورقدرنہ پائی جائیں توکمی بیشی اورادھار حلال ہے"۔
Flag Counter