Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
34 - 199
     بہرحال اس کاغذ کے ٹکڑے پر لکھائی وغیرہ کی و جہ سے اس کی اتنی قیمت ہوگئی ہے اور شرعاً اس کی ممانعت بھی نہیں، بلکہ" قرآن کریم "میں واضح دلیل موجود ہے۔
( اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ )
ترجمہ کنز الایمان:'' مگر یہ کہ کوئی سود ا تمہار ی باہمی رضا مند ی کا ہو'' ۔( پ۵،النسآء: ۲۹)

    پھر آپ علیہ رحمۃا لرحمن نے وضاحت فرمائی کہ مال چار قسم کا ہوتا ہے :۔

۱۔۔۔۔۔۔ وہ اشیاء جوہر حال میں ثمن
 (Money)
رہیں، جیسے سونا، چاندی وغیرہ۔

۲۔۔۔۔۔۔ وہ اشیاء جوہر حال میں مبیع
(Sold Thing)
رہیں، جیسے کپڑے اور چوپائے وغیرہ۔

۳۔۔۔۔۔۔وہ اشیاء جن کی ذات میں
 (In focus)
کوئی ا یسا وصف
(Description)
ہو جس کی وجہ سے وہ چیزکبھی ثمن کہلاتی ہو اور کبھی مبیع۔

۴۔۔۔۔۔۔ وہ اشیاء جو حقیقۃً متاع
(Chattel)
ہوں اور اصطلاحاً ثمن
(Currency)،
جیسے پیسے کہ جب تک ان کا رواج رہے ثمن ہیں ورنہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جائینگے۔

اور نوٹ اسی چوتھی قسم سے ہے ؛کیونکہ اصل میں تو یہ ایک متاع
 (Chattel)
ہے اور عام بول چال میں ثمن ہے اسی لئے نوٹ کے ساتھ تمسک
(Receipt)
یا وثیقہ
(written Agreement)
جیسا معاملہ نہیں، بلکہ ثمن کا سامعاملہ کیا جاتا ہے۔

    بہرحا ل موقع کی مناسبت سے ہم یہاں ''فتح القدیر'' کی مذکورہ بالا عبارت سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ پیش کرتے ہیں، ملاحظہ ہو:۔

۴/ صفر ۱۳۲۴ھ؁ کو سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اﷲتعالی علیہ ''کفل الفقیہ'' کے مُبیَّضَہ( پہلی مرتبہ لکھی گئی تحریر کو ترتیب دیے جانے کے بعد) کی پروف ریڈنگ کے لئے کتب خانہ حرم میں پہنچے، دیکھا کہ ایک جید عالم مولانا عبد اﷲ بن صدیق مفتی حنفیہ
Flag Counter