رہیں، جیسے سونا، چاندی وغیرہ۔
۲۔۔۔۔۔۔ وہ اشیاء جوہر حال میں مبیع
رہیں، جیسے کپڑے اور چوپائے وغیرہ۔
۳۔۔۔۔۔۔وہ اشیاء جن کی ذات میں
ہو جس کی وجہ سے وہ چیزکبھی ثمن کہلاتی ہو اور کبھی مبیع۔
۴۔۔۔۔۔۔ وہ اشیاء جو حقیقۃً متاع
جیسے پیسے کہ جب تک ان کا رواج رہے ثمن ہیں ورنہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جائینگے۔
اور نوٹ اسی چوتھی قسم سے ہے ؛کیونکہ اصل میں تو یہ ایک متاع
ہے اور عام بول چال میں ثمن ہے اسی لئے نوٹ کے ساتھ تمسک
جیسا معاملہ نہیں، بلکہ ثمن کا سامعاملہ کیا جاتا ہے۔
بہرحا ل موقع کی مناسبت سے ہم یہاں ''فتح القدیر'' کی مذکورہ بالا عبارت سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ پیش کرتے ہیں، ملاحظہ ہو:۔
۴/ صفر ۱۳۲۴ھ کو سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اﷲتعالی علیہ ''کفل الفقیہ'' کے مُبیَّضَہ( پہلی مرتبہ لکھی گئی تحریر کو ترتیب دیے جانے کے بعد) کی پروف ریڈنگ کے لئے کتب خانہ حرم میں پہنچے، دیکھا کہ ایک جید عالم مولانا عبد اﷲ بن صدیق مفتی حنفیہ