مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ خرید وفروخت جو کہ ہزار ہا مسلمانوں میں جاری ہے اگر ہم اسے باطل قرار دے دیں اور ان پر یہ بات لازم کردیں کہ کوئی چیز بھی ایک پیسہ سے کم قیمت میں ہرگز نہ خریدیں جبکہ ان کی ضرورت چَھدام، اور دَمڑی وغیرہ سے پوری ہوجاتی ہے تو یہ گویا ان لوگوں پر بھاری بوجھ ڈالنے کے مترادف
(Synonymous)
ہوگا، حالانکہ شریعتِ مطہَّرہ بوجھ ڈالنے کے لئے نہیں بلکہ بوجھ اٹھانے کے لئے آئی ہے، بلکہ اکثر اوقات ان لوگوں کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہو سکیں گے؛ کیونکہ جو سالن پہلے پونے دو پیسوں میں تیار ہوجاتا تھا اب دو آنوں سے کم میں نہ ہوگا، اور وہ پان جو پہلے سوا پیسے میں دن بھر کے لئے کافی تھے اب ایک آنہ میں ملیں گے، مزید اسی پر قیاس
(Estimate)
کرتے جائیں۔
آپ خود سوچیں اگر کسی کے پاس دو پیسوں سے زائد رقم نہ ہو اور آپ سالن پکانے کے لئے اس پر دو آنے خرچ کرنا لازم کردیں تو وہ کیا کریگا، روکھا آٹا پھانکے گایا جو کی خشک روٹی چبائے گا، اور ایسا سالن نہ کھاسکے گا جو اس روٹی کو نگلنے کے قابل بنا کر اسے ہضم کرنے میں مدد دے، اور سالن کے عادی لوگ اگر سالن کھانا چھوڑ دیں تو سو کھی روٹی انہیں ہرگزراس نہ آئیگی اور وہ لوگ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوجائیں گے؛ کیونکہ عادت کا چھوڑنا گویا اپنے آپ سے دشمنی مول لینا ہے۔
یا آپ یہ کہیں گے کہ وہ بھیک مانگے حالانکہ بھیک مانگنا ذلت کا کام اور