Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
81 - 199
شریعت میں حرام ہے، یا ڈاکہ مارے مگر اس پر بھی شریعت میں سخت سزا ہے ،یا سبزی فروش تاجروں اور پانی بیچنے والے بہشتیوں کو حکم دیں گے کہ ان فقراء کی تمام ضروریات کی اشیا ء انہیں مفت دے دیا کریں؛کیونکہ ان اشیاء کی قیمت ایک پیسہ سے کم ہے اور جس چیز کی قیمت ایک پیسہ سے کم ہو وہ مال نہیں ہوتا اور اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے، لہٰذا انہیں مفت دے دیا کریں، اس بات پر تو تاجر بالکل راضی نہ ہونگے اور اگر راضی ہو بھی جائیں تو ایک فقیر کو دوسرے پر ترجیح حاصل نہیں۔

     لہٰذا اگر تاجر ہر فقیر کو اسکی ضرورت کی چیزیں مفت دے دیا کریں تو ان کی تجارت تو بے فائدہ ہوجائے گی، لہٰذا ثابت ہوا کہ ہمارے پاس اس بیع (ایک پیسہ سے کم کی خریدو فروخت) کو جائز قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اور بے شک قرآن پاک نے اسے جائز قرار دیتے ہوئے مطلق ارشاد فرمایا کہ :
( وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ  )
ترجمہ کنز الایمان:'' اﷲ تعالیٰ نے حلال کیا بیع کو''۔( پ۳، البقرۃ: ۲۷۵)

    اور دوسری جگہ فرمایا کہ
( اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ )
    ترجمہ کنز الایمان:'' مگر یہ کہ کوئی سود ا تمہار ی باہمی رضا مند ی کا ہو'' ۔( پ۵،النسآء: ۲۹)

     اور بیع کو جائز قرار دینے سے ان برائیوں کا خاتمہ ہی تو مقصود تھا، لہٰذا اس حکم کو
Flag Counter