| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
گیا ہے، مگر یہ کراہت اس وجہ سے نہیں کہ چھوہارے کی قیمت ایک پیسے سے کم ہے بلکہ ایک طرف سے زیادتی کی بناء پر ہے، لہٰذا اگر برنی کھجور کا ایک چھوہارا جنیب کے چھوہارے کے عوض بیچا جائے تو اس کا تعلق امام معلی کی روایت اور امام محقق کی ترجیح سے ہرگز نہ ہوگا؛ کیونکہ کسی جانب بھی زیادتی نہیں، بلکہ دونوں جانب چھوہارے برابر ہیں، اور ویسے بھی امام معلی کی روایت میں تو اس بیع کو مکروہ (ناپسندیدہ) فرمایا گیا ہے، جبکہ تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ بیع باطل ہوئی، یعنی بالکل ہی منعقد نہ ہوئی ،تو اب تمہارا دعویٰ کہاں گیا؟
"قنیہ" کے مسئلہ کا دلیل عقلی سے جواب
جہاں تک دوسری وجہ غرابت یعنی قوا عدِ شرع سے مخالفت کا تعلق ہے تو میں یہ کہوں گا کہ ہندوستان جو کہ اتنا وسیع ہے کہ اس کا عرض خطِ استواء سے شمال کی جانب ۸ درجے سے ۳۵ درجے تک ہے، اور طول گرین وچ لندن
(Green Vitch London)
سے مشرق کی جانب ۶۶ درجے سے ۹۲ درجے تک ہے، اس میں اکثر فقراء کی معیشت پیسہ کے حصوں دھیلہ (نصف پیسہ) چَھدام (چوتھائی پیسہ ) دَمڑی (نصف چَھدام) وغیرہ سے خریدو فروخت کرنے پر قائم ہے، بہت سے لوگ سالن پکانے کے لئے دھیلے (نصف پیسے) کی سبزی خریدتے ہیں اس میں نصف پیسے کا تِلوں کا تیل ڈال لیتے ہیں چَھدام (چوتھائی پیسے) کے تینوں مصالحے اور چَھدام ہی سے لہسن اور پیاز نیز چَھدام کا نمک لے کر سالن تیار کرتے ہیں اس طرح سے پونے دو پیسے میں انکا سالن