ہے کہ ایک چھوہارے کو دو چھوہاروں کے عوض اور ایک اخروٹ کو دو اخروٹ کے عوض بیچنا جائز ہے، نیز "فتح القدیر"،"در مختار" میں یہ اضافہ
بھی ہے کہ دو سوئیوں کے بدلے ایک سوئی بیچنا جائز ہے۔
("الدّر المختار"، کتاب البیوع، باب الرّبا، ج۷، ص۴۲۷)
حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ایک پیسہ کی نہیں ہوتی۔
ہمارے" ہندوستان "میں ایک پیسے میں بہت سے چھوہارے مل جاتے ہیں، جبکہ یہاں" عرب شریف "میں تو چھوہارے مزید سستے ہیں اسی طرح سے اخروٹ بھی، اور وہ ہمارے" ہندوستان "میں عرب سے زیادہ سستے ہیں۔ نیز" ہندوستان" میں ایک پیسے کی ۸ سے ۲۵ سوئیاں مل جاتی ہیں۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ" قنیہ" کا یہ مسئلہ جس میں مبیع کی کم از کم قیمت ایک پیسہ ہونا شرط ٹھہرایا گیا ہے تمام کتب ِمشہورہ اور ائمہء مذہب کی رائے کے خلاف ہے۔
امام محقق صاحبِ "فتح القدیر" نے اگرچہ امام محمد سے مروی امام معلی کی اس روایت کو راجح قرار دیا ہے جس میں دو چھوہارو ں کے عوض ایک چھوہارا بیچنے کو مکروہ کہا