Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
71 - 199
کے برابر نہیں ہوتی بلکہ ایک دھیلے (نصف پیسہ) کے برابر بھی نہیں ہوتی، اسی لئے کچھ بے باک قسم کے لوگوں کو جعلی پیسہ بنانے کی عادت ہوتی ہے، اور وہ ٹکسال کی طرح کا سانچہ (Die/Mould)بناکر تانبے کو پگھلاتے ہیں اور پھر اس پگھلے ہوئے تانبے کو سانچے میں ڈال کر پیسہ بنالیتے ہیں، اس کام میں ان کی جتنی رقم خرچ ہوتی ہے اس سے دگنا نفع انہیں حاصل ہوجاتا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کام چاندی کے روپے بنانے سے زیادہ نفع بخش ہے، لہٰذا ثابت ہوا کہ اصل پر نظر کرنے سے خود پیسہ بھی ایک پیسہ کا نہیں لہٰذا پیسہ مالِ متقوم (Things with commercial value)نہ ہوا تو پھر یہ قیمت(Cost)اور ثمن کیسے ہوسکتا ہے؟

گزشتہ کلام میں ہم نے ایک عجیب و غریب نایاب علم(Rare Knowledge)سے منقش کاغذ کی مثال پیش کی تھی، اس پر غور کرنے سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اشیاء کی موجودہ حالت دیکھی جاتی ہے اور ان کی سابقہ حالت کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔

کیا آپ نہیں جانتے کہ علماء کرام کی تعظیم شرعاً' عقلاً اور عرفاً لازمی ہے! حالانکہ اصل کے لحاظ سے علماء بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :
( وَاللہُ اَخْرَجَکُمۡ مِّنۡۢ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ شَیْـًٔا )
( پ۱۴،النحل: ۷۸)
Flag Counter