کا جواب تو خود ان کے اس قول کہ "یہ کاغذ کا ٹکڑا ایک پیسے کا نہیں" سے ہی ظاہر ہے ؛کیونکہ ان دونوں مسئلوں میں بہت فرق ہے، ایک یہ کہ کاغذ کا ٹکڑاایک پیسے کا نہیں ،دوسری یہ کہ ایک پیسے کا نہ تھا (مُہر وغیرہ لگنے سے پہلے ) اس لئے کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا علوم لکھے جانے کے بعد یا مُہر لگ جانے کے بعد اب سو روپے اور ہزار روپے کی قیمت کا ہے ،اور اصول یہ ہے کہ" شئے کی موجودہ حالت کا اعتبار کیا جاتا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اصل میں کیا تھی"۔
مثلاً آپ کو معلوم ہے کہ کچی پکی مٹی کے چھوٹے بڑے برتنوں کی خریدو فروخت کا رواج مسلمانوں میں عام ہے اور کوئی ا س کا انکار نہیں کرتا، حالانکہ ان برتنوں کی اصل