Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
70 - 199
خرید و فروخت کے صحیح ہو نے کیلئے مبیع کی  قیمت کم از کم ایک پیسہ ہونا ضروری نہیں
    تو میں اﷲ تعالیٰ کی توفیق سے یہ جواب دیتا ہوں کہ ان عالم صاحب نے یہ بات میرے رسالے کا مطالعہ کرنے سے پہلے کہی تھی ،کاش ! و ہ میرے رسالے کا مطالعہ کرلیتے اور اس کے مضامین پر مطلع ہوجاتے تو ان پر آشکار ہوجاتا کہ ان کے اعتراض
(Objection)
کا جواب تو خود ان کے اس قول کہ "یہ کاغذ کا ٹکڑا ایک پیسے کا نہیں" سے ہی ظاہر ہے ؛کیونکہ ان دونوں مسئلوں میں بہت فرق ہے، ایک یہ کہ کاغذ کا ٹکڑاایک پیسے کا نہیں ،دوسری یہ کہ ایک پیسے کا نہ تھا (مُہر وغیرہ لگنے سے پہلے ) اس لئے کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا علوم لکھے جانے کے بعد یا مُہر لگ جانے کے بعد اب سو روپے اور ہزار روپے کی قیمت کا ہے ،اور اصول یہ ہے کہ" شئے کی موجودہ حالت کا اعتبار کیا جاتا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اصل میں کیا تھی"۔

مثلاً آپ کو معلوم ہے کہ کچی پکی مٹی کے چھوٹے بڑے برتنوں کی خریدو فروخت کا رواج مسلمانوں میں عام ہے اور کوئی ا س کا انکار نہیں کرتا، حالانکہ ان برتنوں کی اصل
(Reality)
مٹی ہے اور مٹی مال نہیں،بلکہ

ا گر اصل کا اعتبار کیا جائے تو خود پیسہ پر بھی اعتراض وارد ہوگا؛ کیونکہ آپ جان چکے ہیں کہ پیسہ تانبے کی جس پتری سے بنایا جاتا ہے اس پتری کی قیمت ہرگز ایک پیسہ
Flag Counter