| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
سوال ۶: کیا اس نوٹ کو چاندی کے روپوں، سونے کی اشرفیوں اور تانبے کے پیسوں کے بدلے بیچنا جائز ہے ؟
ا لجو ا ب
جی ہاں۔۔۔۔۔۔! جائز ہے اور تمام ملکوں میں اس کا رواج بھی ہے اور تم اس کی تحقیق(Research)
جان چکے ہو۔
پچھلے کلام میں جواب واضح ہوجانے کی بناء پر میں اسی جواب کو کافی سمجھا تھا مگر جب میں یہ رسالہ مکمل کرچکا تو مجھے بعض علماء یعنی فاضل حامد احمد محمد جدّادی -سلمھم اﷲ-کی طرف سے یہ معلوم ہوا انہوں نے یاد دہانی کے لئے فرمایا کہ علامہ ابن عابدین -رحمۃ اﷲ علیہ- نے "رد المحتارـ" میں اس اصول "بیع منعقد ہونے کے لئے مبیع کا مالِ متقوم(Things with commercial value)
ہونا شرط ہے" سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ روٹی کے ایک ٹکڑے کی بیع باطل ہے ؛کیونکہ بیع کے جائز ہونے کے لئے مبیع کی کم از کم قیمت ایک پیسہ ہونا ضروری ہے۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، مطلب: شرائط البیع أنواع أربعۃ، ج۷، ص۱۳، ملتقطاً)اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ کاغذ کے اتنے سے ٹکڑے کی قیمت ایک پیسہ بھی نہیں لہٰذا نوٹ کی بیع باطل (Null) ہونی چاہے۔ باطل ہونے سے مراد یہ ہے کہ بیع اصلاً ہوئی ہی نہیں چہ جائیکہ ہم اسے حرام یا مکروہ قرار دیں۔