Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
65 - 199
اور شرعِ مطہرہ کی طرف سے (اصطلاح مقرر کرنے)میں کوئی روک ٹوک نہیں۔

    اتنی تفصیل کے بعد یہ مسئلہ واضح ہوگیا کہ نوٹ مال کی اس چوتھی قسم میں سے ہے؛ کیونکہ حقیقۃً یہ کاغذ کا ٹکڑا ہو نے کی وجہ سے متاع (محض سامان) ہے اور اصطلاح میں اس کے ساتھ ثمن کی طرح کا معاملہ کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ اصطلاحی ثمن ہے اور جو رقم نوٹ پر لکھی ہوتی ہے وہ ثمنِ خلقی
 (Real Money)
یعنی سونا، چاندی کے مقابلے میں نوٹ کی ثمنیت کی مقدار ہوتی ہے اور نوٹ کا ثمن
 (Currency)
ہونا چونکہ ایک اصطلاح
(Terminology)
ہے، لہٰذا اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور نہ ہی اس کی توجیہ کا سبب دریافت کیا جائے گا۔
    بحمداﷲالفتاح القدیر
اس تقریر سے نوٹ کی حقیقت واضح ہوگئی، اور چونکہ نوٹ کے تمام احکام اسی حقیقت پر مبنی ہیں، لہٰذا اب ان شاء اﷲ عزوجل کسی حکم کے اظہار میں کوئی دشواری رکاوٹ نہیں بنے گی۔

    اور بے شک تمام خوبیاں اس اﷲ تعالیٰ کے لئے ہیں جو ہر چیز کا نگہبان اور عظمتوں والاہے۔

سوال ۱ : نوٹ مال ہے یا تحریری اقرار نامہ کی طرح کوئی سند ؟

جواب : آپ کے سوال کا جواب تفصیل سے دیا جاچکا ہے مزید اضافہ کی ضرورت نہیں (یعنی نوٹ مال ہے اور گزشتہ چار اقسام میں سے چوتھی قسم کامال) ۔
Flag Counter