Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
64 - 199
4۔     مال کی چوتھی قسم وہ ہے کہ حقیقت میں تو متاع
 (Chattels)
ہو مگر رواج کے اعتبار سے ثمن ہو، جیسا کہ پیسے کہ جب تک چلتے رہیں گے ثمن کی طرح ہیں، اور جب ان کا چلن
 (Current)
ختم ہوجائے گا تو یہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جائیں گے (اور ان کی حیثیت محض دھات کے ٹکڑوں کی سی رہ جائے گی) اور بلاشبہ اہل اصطلاح جب کسی چیز کو ثمن قرار دینا چاہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس چیز کی ثمنیت کی مقدار
 (Quantity)
مقرر کرنے میں ثمنِ خلقی
(Real Money)
کی طرف رجوع کریں؛کیونکہ عارضی چیز کا قیام تو ذاتی ہی کے سبب سے ہوتا ہے، اسی لئے اہل اصطلاح چونسٹھ۶۴ ہندی پیسے یا اکیس ۲۱عربی ہللے(سکے)ایک چاندی کے روپے کے برابر قرار دیتے ہیں، اور انہیں یہ اختیار ہے کہ جو اصطلاح چاہیں مقرر کرلیں؛ کیونکہ اصطلاح مقرر کرنے میں کوئی روک ٹوک نہیں۔ 

    ۲۰سال پہلے ہندوستان میں دو طرح کے سکے رائج تھے (۱) مُہر والا سکہ (۲) تانبے کے تکونی شکل والے لمبے ٹکڑے جو کہ وزن میں مُہر والے سکے سے ڈبل ہوتے تھے۔ مُہر والے پورے۶۴ سکے چاندی کے ایک روپے کے برابر ہوتے تھے جبکہ تانبے کے ٹکڑوں والے سکے کی قیمت میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی، اور بعض اوقات تو ایک روپیہ اس قسم کے ۸۰ سکوں کے برابر ہوجاتا تھا ،یہاں تک کہ ان سکوں کا رواج ختم ہوا اور ان کی ثمنیت (کرنسی ہونے) کی حیثیت بھی ختم ہوگئی اور یہ سب اصطلاح ہی کے سبب ہوا
Flag Counter