اور جو نوٹ زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے سے پہلے ملے اسے اپنی جنس کے نصاب
جی ہاں۔۔۔۔۔۔ ! زکوٰۃ کی شرائط پائی جائیں تو نوٹ پر زکوٰۃ واجب ہے ؛کیونکہ آپ جان چکے ہیں کہ نوٹ بذاتِ خود ایک قیمت والا مال ہے۔ دستاویز یا قرض کی رسید نہیں کہ جب تک نصاب کا پانچواں حصہ قبضہ میں نہ آئے ،زکوٰۃ واجب نہ ہو؛کیونکہ قرض وغیرہ کی صورت میں جب تک نصاب کا پانچواں حصہ قبضہ میں نہ آئے زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، اورنوٹ میں تجارت کی نیت کی بھی حاجت نہیں؛کیونکہ فتویٰ اس بات پر ہے کہ ثمنِ اصطلاحی جب تک رائج رہیں گے ان پر زکوٰۃ واجب ہے، بلکہ نوٹ سے تجارت کی نیت جدا ہو ہی نہیں سکتی؛کیونکہ لین دین کے بغیر ثمنِ اصطلاحی سے نفع لیا ہی نہیں جاسکتااور یہ بات بالکل ظاہر ہے۔
"فتاویٰ علامہ قاری الہدایہ" میں ہے کہ فتویٰ اس بات پر ہے کہ" پیسے جب تک رائج رہیں گے ان پر زکوٰۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ دو سو درہم (ساڑھے باون تولے) چاندی یا بیس مثقال(ساڑھے سات تولے) سونے کی قیمت کو پہنچے ہوں"۔