کے عوض بیچا جائے اس صورت میں اگر مثلی چیزوں کے عوض کسی چیز کو بیچنا کہا جائے تو یہ مثلی چیزیں ہر حال میں ثمن ہی رہیں گی، چاہے معیّن ہوں یا غیر معیّن، مثلاً کسی نے کہا کہ میں نے یہ کپڑا اتنے گیہوں یا اس گیہوں کے بدلے میں بیچا، گیہوں معیّن ہوں یا غیر معیّن دونوں صورتوں میں بیع مطلق ہوگی ،اور وہ گیہوں ذمہ پر لازم ہو جائے گا، اور اگر یہ کہا جائے کہ میں نے مثلی چیز کو کسی شئے کے عوض بیچا تو اگر یہ چیز معیّن ہو تو ثمن ہے، مثلاً یوں کہا کہ میں نے یہ گیہوں اس کپڑے کے عوض بیچے (تو گیہوں ثمن ہیں) اور اگر معیّن نہ ہو تو مثلی چیزیں مبیع ہیں، مثلاً یہ کہا کہ میں نے اتنے من گیہوں اس غلام کے عوض بیچے (توگیہوں مبیع ہیں) حالانکہ یہ صورت سلم کی شرائط پائے جانے کی وجہ سے بیعِ سلم ہے۔
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مثلی چیزوں کو اگر سونے اور چاندی کے عوض بیچا جائے تو یہ مثلی چیزیں مطلقا ً مبیع ہوں گی اور اگر سونے چاندی کے علاوہ کسی اور شئے کے عوض بیچیں تو اس کی تین صورتیں ہوں گی۔
(۱) اگر مثلی چیزوں کے عوض کوئی چیز بیچنا کہا تو یہ مثلی چیزیں مطلقاً ثمن ہوں گی۔
(۲) اور اگر مثلی چیزوں کو کسی شئے کے عوض بیچنا کہا جائے تو اگر یہ معیّن ہوں تو ثمن ہیں۔
(۳) اور غیر معیّن ہوں تو مبیع۔ اور یہ علامہ شامی- رحمہ اﷲ- کے کلام کی وضاحت ہے، اس انداز کی وضاحت "فتاویٰ شامی" میں بھی نہیں۔