Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
62 - 199
بلکہ میں نے اس قید
 (Restriction)
"اس کی ذات میں کوئی ایسا وصف ہوجسکے سبب وہ کبھی مبیع ہو اور کبھی ثمنـ"کاـ اضافہ اس لئے کیا ہے تاکہ یہ مال کی چوتھی قسم سے خارج ہوجائے؛ کیونکہ وہ اپنے اندر پائے جانے والے وصف کی بنا پر نہیں بلکہ اصطلاح اور عدمِ اصطلاح کی بنا پر کبھی ثمن ہوتی ہے اور کبھی مبیع ۔

اس تیسری قسم کے مال سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو مثلی
 (Similar Things)
کہتے ہیں (مثلی سے مراد وہ اشیاء ہیں جنہیں ناپ یا تول کر بیچا جاتا ہے ، مثلاً گندم، کھجور ، سونا، چاندی، اور مثلی کے مقابل قیمی اشیاء ہیں، اس سے مراد وہ اشیاء ہیں جو ناپ یا تول کر نہیں بیچی جاتیں ،مثلاً کپڑا،جانور وغیرہ) ان کے خرید و فروخت کی دو صورتیں ہیں:

پہلی یہ کہ ان کی بیع سونے یا چاندی کے عوض کی جائے اس صورت میں یہ مثلی چیزیں مطلقاً مبیع ہوں گی، خواہ بیع میں عوض انہیں ٹھہرا یا گیا ہو یا سونے، چاندی کو، اور یہ چیزیں معین ہوں یا غیر معین ،مثلاً اگر تُویوں کہے کہ میں نے یہ سونا اتنے مَن گیہوں کے عوض بیچا یا اس طرح کہے کہ اس گیہوں کے عوض بیچا (یعنی یا تو مقدار کا ذکر کردے یا بیچی جانے والی شئے کو اشارہ کرکے متعین کردے) توگیہوں دونوں صورتوں میں مبیع ہے، اگر گیہوں معیّن(موجود) ہوں تو بیع مطلق ہوگی اور اگر غیر معیّن(یعنی خریدوفروخت کے وقت غیر موجود) ہوں توبیعِ سلم ہوگی، اور اس میں سلم کی شرائط کا پایا جانا ضروری ہوگا۔

    دوسری صورت یہ ہے کہ مثلی چیزوں کو سونے اور چاند ی کے علاوہ کسی اور شئے
Flag Counter