Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
61 - 199
مبیع ہوتی ہے، ثمنِ خالص نہیں ہوسکتی، اگرچہ ایک لحاظ سے ثمن بھی ہوتی ہے؛ کیونکہ بیع
 (Sale)
کے لئے مبیع اور ثمن دونوں کا ہونا ضروری ہے ،بخلاف آئندہ آنے والی قسم کے؛کیونکہ وہ کبھی خالص ثمن ہوتی ہے اور کبھی خالص مبیع ،ان دونوں قسموں کے معنی یہی ہیں کہ ان سے ان کا ثمن یا مبیع ہونا کسی حالت میں بھی جدا نہ ہو سکے، اگرچہ بعض اوقات اسے دوسرا رُخ بھی عارض ہوجاتا ہے، مصنف نے کپڑوں کی گزشتہ مثال کو مطلق رکھا اور شرح و حواشی میں بھی اس کے اِطلاق کو برقرار رکھا ہے ،حالانکہ اس سے مراد وہ کپڑے ہیں جو مالیت میں برابر نہ ہوں، ورنہ وہ کپڑے تیسری قسم سے ہوں گے جبکہ ان کپڑوں کاضبط(تعیّن) ہو سکے اور یہ ضبط یا تو جنس ذکر کرنے سے ہوگامثلاً روئی ،کتان یا کارخانے کے ذکر سے ہوگا،مثلاً شام و مصر کا کام، یاباریک یا موٹا ہونے سے،یاطول و عرض( لمبائی اور چوڑائی) کی پیمائش سے،یاوزن سے جبکہ وہ کپڑے تول کربیچے جاتے ہوں
 (Quality)
اور اسی تعین کی وجہ سے اس میں بیعِ سلم جائز ہے ۔

3 ۔    وہ مال جس کی ذات میں ایسا وصف پایا جائے جس کے سبب وہ کبھی مبیع ہو اور کبھی ثمن بن جائے، میرا یہ کہنا "تنویر الابصار" کے اس قول کی طرح نہیں کہ ایک جہت سے ثمن ہو اور ایک جہت سے مبیع
 (Sold)،
 ("الدّ رالمختار"، کتاب البیوع، باب الصرف، ج۷، ص۵۷۵،)
تاکہ مقایضہ والی بات کا اعادہ نہ ہو جائے (کیونکہ یہ بات تو دوسری قسم میں موجود ہے)
Flag Counter