| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
اور اس میں بیعِ صَرف کی تمام شرائط جاری ہوں گی؛ کیونکہ سونا اور چاندی کو ثمنیت ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اور اﷲ کی پیدا کی ہوئی چیز میں تبدیلی نہیں آتی۔ 2۔ وہ مال جو ہر حال میں مبیع
(Selling Good or Merchandise)
رہے، جیسے کپڑے اور چوپائے؛کیونکہ اگر یہ کہا جائے کہ فلاں چیز ان کے بدلے میں بیچی یا ان کو کسی بھی چیز کے بدلے بیچا جائے، وہ چیز کبھی بھی ذمہ پر دَین( قرض) ہو کر لازم نہیں ہوگی، اور ثمنیت کے معنی بھی یہی ہیں کہ وہ شئے ذمہ پر دَین ہو کر لازم ہو، لہٰذا یہاں یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ بیعِ مقایضہ میں دونوں متاع
(Goods)
ایک لحاظ سے ثمن ہوتے ہیں۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الصرف، مطلب في بیان مایکون مبیعا...إلخ، ج۷، ص۵۷۴، ملخصاً) علامہ شامی- علیہ الرحمۃ- نے علامہ طحطاوی کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اسی طرح کی توجیہ فرمائی ہے۔
میرے خیال میں یہاں ایک اعتراض ہوسکتا ہے وہ یہ کہ سونے سے بنائی گئی اشیاء، مثلاً برتن یا کنگن بھی ذمہ پر دین نہیں ہوتے، بلکہ عقد(Contract)
میں متعین
(Fixed)
ہوجاتے ہیں (یعنی جن برتنوں یا کنگنوں کے عوض بیع ہوئی ہے وہی دینا ہوں گے) جیسے کہ" بحر الرائق "کے حوالے سے گزرا ،لہٰذا اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے تو اس پر اعتراض وارد ہوگا، میرے نزدیک اس کا صاف جواب یہ ہے کہ بیعِ مقایضہ میں ہر شئے