| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
لہٰذا جب کاغذ کے ایک ورق کی قیمت اس تحریر کی وجہ سے دس ہزار تک پہنچ گئی تو اس میں تعجب کی کونسی بات ہے کہ نوٹ پر لکھائی کے سبب اس کی قیمت دس روپے یازائد ہوگئی، اور اس وجہ سے لوگ اس کی طرف مائل ہوئے، شرع نے بھَلا اس سے کب روکا ہے۔۔۔۔۔۔!
مال (Property)کی چار اقسام اور ان کی فقہی بحث
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسئلہ واضح و روشن ہے، بات دراصل یہ ہے کہ" بحر الرائق" وغیرہ کتب میں ہے کہ مال کی چار قسمیں ہیں ۔ 1۔ وہ مال جو ہر صورت میں ثمن ہی رہے، جیسے سونا اور چاندی یہ ہمیشہ ثمن ہی رہیں گے چاہے ان کو کسی شئے کے عوض بیچا جائے یا ان کے عوض کسی چیز کو بیچا جائے ،اپنی جنس کے بدلے لین دین ہو یا غیر جنس کے بدلے ،اہل عرف انہیں ثمن کہیں یا نہیں، جیسے سونے چاندی کے برتن وغیرہ، کہ یہ اس میں ہونے والی بناوٹ
(Designing)
کی و جہ سے خالص ثمن
(Pure Money)
نہ رہے، اسی لئے یہ عقدِ بیع میں متعین
(Fixed)
ہوجائیں گے، اور ان کی بیع شرعاً بیعِ صَرف(۱) ٹھہرے گی ۔
( "البحر الرائق"، کتاب الصرف، قولہ (ھو بیع بعض الأثمان ببعض)ج۶، ص۳۲۱ )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۱ ۔۔۔۔۔۔ "بیعِ صرف" اس بیع کو کہتے ہیں جس میں ثمنِ خلقی (Real Money) کے عوض ثمنِ خلقی کو بیچا جاتا ہے جیسے سونے کے عوض سونا یا چاندی کے عوض چاندی بیچنا۔