اوریہ دس ہزار جو اس شخص نے ادا کئے وہ اس لکھے ہوئے علم کی قیمت نہیں ؛
کیونکہ وہ تو مال ہی نہیں (۱)، جیسا کہ"ہدایہ"اور ان دیگر کتب میں بھی اس کی تصریح موجود ہے جن میں مسائل کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور "ہدایہ" کی عبارت یہ ہے کہـ" قرآن پاک چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اگرچہ اس پر سونا چڑھا ہو ا ہو کیونکہ لکھائی کے اعتبار سے تو وہ مال نہیں، اور اس کی حفاظت تو الفاظ قرآنیہ کی وجہ سے کی جاتی ہے نہ کہ جلد، ورقوں اور سونے کے نقوش کی و جہ سے ؛کیونکہ یہ چیزیں تو الفاظ کے تابع ہیں، اور کسی قسم کے رجسٹر میں بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ؛کیونکہ رجسٹر سے مقصود اس میں لکھی جانے والی تحریریں ہوتی ہیں اور وہ مال نہیں ہوتیں ،مگر حساب و کتاب کا رجسٹر چرانے کی صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا؛کیونکہ اس میں جو لکھا ہوتا ہے وہ دوسرے کے کام کا نہیں ہوتا، لہٰذا اس چوری سے مقصود کاغذ ہی ہوتے ہیں" اور کاغذ مال ہے جس کے چرانے پر چوری کی حدّ کا نصاب پورا ہونے کی صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔