Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
57 - 199
ہوجاتی ہے، جیسا کہ بارہا ایسا ہوا کہ کسی کنیز کو دو لاکھ سے زائد قیمت میں خریدا گیا اور دوسری کنیز کو کوئی چاندی کے ۳۰روپوں میں بھی خریدنے کو تیار نہیں، حالانکہ شرع میں اوصاف کی قیمت نہیں ہوتی بلکہ ذات
 (Infocus)
کی ہوتی ہے، یہاں تک کہ اگر کنیز کے ہاتھ پاؤں جان بوجھ کر ہلاک نہ کیے جائیں تو وہ ثمن
 (Cost)
ذات ہی کاہے جس ثمن کو رغبتیں بڑھنے کے سبب اوصا ف نے بڑھا دیا ہے۔
کتابت (Writting) مال نہیں
    (اب مصنف- علیہ الرحمۃ- اپنے اس دعوےٰ پر دلیل بیان کررہے ہیں دعویٰ یہ ہے کہ کسی شے میں اگر کوئی خوبی پیدا ہوجائے تو اصل شے کی قیمت بڑھ جاتی ہے، چنانچہ کاغذ کے ٹکڑے پر جب
(Stamp)
لگ گئی تو اس کی قیمت کبھی سو،کبھی ہزار روپے تک ہوگی) چلیے یہ بتایئے کہ اگر کسی کاغذ پر ایک نادر و نایاب علم
 (Rare Knowledge)
لکھا ہو اور کوئی اس علم کا قدر دان، اس کا طلبگار ہو ،وہ اس کاغذ کو دس ہزار روپے میں خریدے، تو کیا اس نے کوئی خلاف شرع کام کیا ؟ ہرگز نہیں، بلکہ جائز و حلال طریقہ کے مطابق عمل کیا ،اور یہ بات قرآن عظیم اور امتِ مسلمہ کے اجماع سے بھی ثابت ہے، اﷲ تعالیٰ ارشا د فرماتا ہے کہ:
( اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ )
ترجمہ کنز الایمان:" مگر یہ کہ کوئی سود ا تمہار ی باہمی رضا مند ی کا ہو" ۔ ( پ۵،النسآء: ۲۹)
Flag Counter