ذات ہی کاہے جس ثمن کو رغبتیں بڑھنے کے سبب اوصا ف نے بڑھا دیا ہے۔
کتابت (Writting) مال نہیں
(اب مصنف- علیہ الرحمۃ- اپنے اس دعوےٰ پر دلیل بیان کررہے ہیں دعویٰ یہ ہے کہ کسی شے میں اگر کوئی خوبی پیدا ہوجائے تو اصل شے کی قیمت بڑھ جاتی ہے، چنانچہ کاغذ کے ٹکڑے پر جب
لگ گئی تو اس کی قیمت کبھی سو،کبھی ہزار روپے تک ہوگی) چلیے یہ بتایئے کہ اگر کسی کاغذ پر ایک نادر و نایاب علم
لکھا ہو اور کوئی اس علم کا قدر دان، اس کا طلبگار ہو ،وہ اس کاغذ کو دس ہزار روپے میں خریدے، تو کیا اس نے کوئی خلاف شرع کام کیا ؟ ہرگز نہیں، بلکہ جائز و حلال طریقہ کے مطابق عمل کیا ،اور یہ بات قرآن عظیم اور امتِ مسلمہ کے اجماع سے بھی ثابت ہے، اﷲ تعالیٰ ارشا د فرماتا ہے کہ:
( اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ )
ترجمہ کنز الایمان:" مگر یہ کہ کوئی سود ا تمہار ی باہمی رضا مند ی کا ہو" ۔ ( پ۵،النسآء: ۲۹)