ہوتے ہیں اگر تم ان کے وزن کے برابر تانبا تولو، تو وہ ہرگز ایک روپے کی قیمت کا نہیں ہوگا، بلکہ بعض اوقات تو وہ تانبا اٹھنی
کی قیمت کا بھی نہیں ہوتا، اور تم چاندی کے سکوں میں بھی ایسا تجربہ کرسکتے ہو۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے ملک میں چاندی کے دو روپے کی ہم وزن چاندی ایک روپے میں بکتی تھی اور جاہل لوگ اس میں پائے جانے والے سود کے وبال کو فراموش کرکے چاندی خریدتے تھے (۱)، جب مہر لگنے سے چاندی کی قیمت دگنی ہوگئی تو اب دگنی اور چارگنا زیادتی سب برابر ہے، اور یہ بات بھی ہر عقلِ سیلم رکھنے والے پر ظاہر ہے کہ بعض اوقات کوئی حقیر شئے کسی وصف یا اضافی خوبی کی بنا پر اپنے جیسی ہزاروں چیزوں سے مہنگی اور زیادہ قیمتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
= کے نزدیک بھی اس کی قیمت ۱۰۰۰ روپے ہوگی، یعنی چاندی کی قیمت تو دس دراہم سے کم ہے لیکن اس کا وزن دس درہموں کے برابر ہے۔ تو اگر اس پر مُہر(Stamp) نہ لگی ہو تو اسے چُرانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور اگر مُہر ہو تو چونکہ مُہر کی و جہ سے اس کی قیمت دس درہموں کے برابر ہوجائے گی، لہٰذا اسے چُرانے والے کا ہاتھ کاٹا جائے گا؛ کیونکہ شرعِ مطہّر میں کم از کم دس درہم یا اس کی مالیت کے برابر شئے چرانے پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
۱۔۔۔۔۔۔ اگر چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے بیچا جائے تو ضروری ہے کہ دونوں وزن میں برابر ہوں اگر وزن میں کمی بیشی ہوگی تو شریعت میں سود (Usury) شمار ہوگی ۔